ایودھیا،7؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) اُترپردیش کے ہاتھرس میں ایک دلت لڑکی کے گینگ ریپ پھر اس کی اسپتال میں موت کے بعد جس طرح کانگریس یوگی حکومت پر ایک کے بعد ایک حملہ کررہی ہے، وہیں وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے دیگر لیڈران کی خاموشی پر بھی سوالات اُٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔
ہاتھرس واقعے پر حکومت کی خاموشی پر اب کانگریس لیڈر پرمود تیواری نے بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کو حدف تنقید بناتے ہوئے پوچھا ہے کہ خواتین کی سیکورٹی کو لے کر پچھلی مرکزی حکومت کو چوڑیاں بھیجنے والی اسمرتی ایرانی اب کہاں ہیں، وہ ہاتھرس کے معاملے پر خاموش کیوں ہیں ؟ ان کی چوڑیاں اب کہاں ہیں؟ اب وہ خواتین کے تحفظ پر بیان کیوں نہیں دے رہی ہیں ؟
ہاتھرس واقعہ کے بعد ایک طرف جہاں اپوزیشن پارٹیوں نے متاثرہ کنبہ کو انصاف دلانے کے لیے تحریک چلا رکھی ہیں، وہیں کچھ لیڈران ملزمین کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں جس پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس درمیان کانگریس لیڈر پرمود تیواری نے ہاتھرس واقعہ کو یو پی حکومت کی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ "اتر پردیش میں کوئی نظام قانون نہیں ہے۔ پہلے ایک بیٹی کے ساتھ ظلم ہوتا ہے، اسے علاج نہیں ملتا، انتظامیہ سے کوئی سیکورٹی نہیں ملتی، اور پھر گھر والوں کے احتجاج کے باوجود اس کی آخری رسومات رات کو ہی ادا کر دی جاتی ہے جب کہ ہندو مذہب میں رات کو آخری رسومات ادا کرنا منع ہے۔"
کانگریس لیڈر پرمود تیواری بدھ کے روز ایودھیا میں واقع ہنومان گڑھی مندر میں پوجا کرنے پہنچے تھے جس کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ہاتھرس واقعہ کے تعلق سے اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ ساتھ ہی زرعی قوانین کے تعلق سے بھی اپنی رائے دی۔ اس سلسلے میں انھوں نے کہا کہ "مودی حکومت کسانوں کے خلاف تین زرعی قوانین لے کر آئی ہے۔ اس کے بعد کسانوں کی پیداوار کا فائدہ امبانی اور اڈانی کی تجوریوں میں جائے گا۔ جس دن کانگریس اقتدار میں آئے گی، ہم 24 گھنٹے میں ان قوانین کو ختم کر دیں گے۔"